00:00
04:21
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
ہم تو چلے متاعِ دل و جان ہار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
♪
بادِ سحر نے جب تِرے آنے کی دی نوید
بادِ سحر نے جب تِرے آنے کی دی نوید
مرجھائے پھول کھل اٹھے میرے مزار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
♪
چہرے بدل گئے ہیں، نظامِ چمن وہی
چہرے بدل گئے ہیں، نظامِ چمن وہی
ہر سمت ڈھیر ہیں وہی خاشاک و خار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
♪
بھر بھی گئے جو زخم تھے شمشیرِ جور کے
بھر بھی گئے جو زخم تھے شمشیرِ جور کے
عارفؔ، مگر یہ وار لبِ لعلِ یار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے
ہم تو چلے متاعِ دل و جان ہار کے
غیروں سے اب سنا کرو نغمے بہار کے